48

وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ/ مفتاح اسماعیل کی پریس پر رد عمل

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے مفتاح اسماعیل کی سوشل میڈیا پر چلنے والی پریس کانفرنس میں بتائی گئی باتوں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے جس رپورٹ کا حوالہ دیا ہے، سندھ حکومت اس رہورٹ پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔سندھ حکومت نے پلاننگ اینڈ کمیشن آف پاکستان کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پروگرام انڈیکس کی رپورٹ کو حقائق کے برعکس قرار دیا تھا۔

ہم کہہ چکے ہیں اسلام آباد کے ادارے زمینی حقائق جانے بنا بس “ڈیسک انالسٹ” کا کردار ادا کرتے ہیں۔جس رپورٹ کا حوالہ دیا جا رہا ہے اس کے ڈیٹا کے ذرائع 2022-23 کے ہیں، جبکہ سب جانتے ہیں کہ 2022 میں شدید سیلاب آیا تھا اور لوگ 2023 کے اوائل تک بے گھر تھے، اس لیے رپورٹنگ میں حقائق تبدیل ہوۓ-

حقائق جانے بنا جان بوجھ کر سندھ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔مفتاح اسماعیل کے پاس بیچنے کو کوئی اور منجن نہیں ہے تو وہ ایک آدھی رپورٹ لے کر آ گئے۔ ایک طرف رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری میں داخلوں میں بالترتیب 3.2، 7.6، 5 اور 8.8 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوسری طرف اسی رپورٹ میں شرح خواندگی میں کمی بھی ظاہر کی گئی ہے، جو کہ خود اس میں تضاد ہے۔

آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے، کسی بھی سروے کے پہلے صوبائی محکموں سے رابطہ تک نہیں کیا جاتا۔المیہ یہ ہے کہ وفاقی ادارے آج تک ہمیں درست تک نہیں گن سکے تو ان کے دیگر اعداد بھلا کہاں تک سچ ہو سکتے ہیں۔یکطرفہ رپورٹ جاری کی ہے کہ سندھ میں اسکول خستہ حال ہیں، ہم یہ بات خود پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں شدید برساتوں اور سیلاب کی وجہ سے 20 ہزار اسکولز متاثر ہو چکے ہیں۔

قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارا تعلیمی انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، انفرا اسٹرکچر کے سیلاب سے متاثر ہونے کے معاملے کو کارکردگی ہیں شامل کرنا بے بنیاد ہے۔ پلاننگ کمیشن والوں کو پتا ہی نہیں ہے، سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے کہ جس کے نصاب کے بارے میں یونیسکو کے غیر جانبدار تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کا نصاب باقی صوبوں سے بہتر ہے۔ مفتاح اسماعیل باقی صوبوں کو بتائیں کہ پنجاب کے اسکولوں میں ایک لاکھ اساتذہ کی کمی ہے، کے پی کے کے اسکولز میں بچیوں کی کا کیا حال ہے۔؟

سندھ میں میرٹ پر 90 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے عمل میں مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل ہوا، سندھ میں اساتذہ بھرتی ہونے کے بعد معیار بھتر ہوا ہے اور داخلا کا تناسب بھی بڑھا ہے۔سندھ میں پہل کرتے ہوۓ ٹیچرز لاسنس پالیسی متعارف کروائی گئی، یہ اقدامات سندھ حکومت کے شروع کردہ ہیں۔

سندھ میں ایک لاکھ اسکوائر کلومیٹر ایراضی پر ریگستان، کوہستان، کوسٹل ایریا اور پہاڑ ہیں جہاں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ظاہر ہے نیٹ ورک مہیا کرنے کا کام محکمہ تعلیم تو نہیں کر سکتا، ہمیں ٹیکنالاجی میں اس بنیاد پر پیچھے رکھا گیا۔ اسی طرح سندھ میں بجلی کا مسئلہ سب کے سامنے ہے، گاؤں کے گاؤں بغیر بجلی کے زندگی بسر کر رہے ہیں، اسکول بھی انہیں گاؤں دیہات کا حصہ ہوتے ہیں۔

ہم نے اپنے سسٹم کی جائز خامیاں کبھی بھی چھپائی نہیں ہیں۔پلاننگ کمیشن کی اپنی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سندھ کے نوشہروفیروز ضلع نے پنجاب کے نصف سے زائد اضلاع اور خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ کر بھی کاکردگی کے لحاظ سے 69 نمبر حاصل کیا ہے۔ واحد نوشہروفیروز ضلع، پنجاب کے 70 فیصد اضلاع سے لرننگ آئوٹ کم میں آگے ہے، کیا اس بابت کوئی حوالہ دیا گیا۔

مفتاح اسمائیل نے یہ بات کیوں نہیں بتائی، ہو نہ ہو مفقاح اسمائیل شاید اب بھی اپنا پرانا یارانہ نبھا رہے ہیں۔مفتاح اسمائیل فنانس منسٹر رہ چکیں ہیں، کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ محکمہ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کا 92 فیصد حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی خامیوں کو کبھی چھپایا نہیں، لیکن وفاقی ادارے رپورٹ بنانے سے پہلے ہم سے بھی پوچھنے کی بھی زحمت تک نہیں کرتے۔جب اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں ہونگے تو مسائل کا درست اور دیر پا حل بھی نہیں مل سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں