44

گیس کی لوڈشیڈنگ، عوام کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے،افسران کے کاروبارگرم ہیں

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام کے چولہے تو ٹھنڈے پڑ گئے مگر ایس ایس جی سی کے کرپٹ عملے و افسران کے کاروبار خوب گرم ہیں۔

حیرت انگیز طور پر گیس چوری کا ایسا منظم نیٹ ورک سامنے آیا ہے جس میں کمپنی کے ہی اہلکار نہ صرف شامل ہیں بلکہ سہولت کار بھی بنے ہوئے ہیں اور ہوٹلوں کو غیر قانونی کنکشنز اور “خصوصی رعایت” فراہم کی جا رہی ہے۔

اسی دوران، حکومت پاکستان نے گیس ٹیرف میں ایک اور ظالمانہ اضافہ کر کے مہنگائی کا تازہ بم گرا دیا ہے۔ صنعتی و بجلی پیدا کرنے والے شعبے کے لیے 10 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو “تحفظ” دینے کے نام پر فکسڈ چارجز بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ یعنی اب اگر گیس نہ بھی آئے تو بھی بل ضرور آئے گا، وہ بھی دوگنا۔

یہ معاشی جادوگری دراصل آئی ایم ایف کے احکامات کی بجا آوری کے نام پر کی جا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس عالمی سوداگری کا پورا بوجھ پاکستانی عوام ہی اُٹھائیں گے؟ اور کیا ایس ایس جی سی کی اندرونی کرپشن کی قیمت بھی صارفین ہی ادا کریں گے؟

حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس نے کئی شرمناک حقائق بے نقاب کیے ہیں، کراچی میں ایس ایس جی سی کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر جعلی اور غیر قانونی کنکشنز دے کر گیس چوری میں ہوٹل مافیا کی مدد کی جبکہ گھریلو صارفین کو اوور بلنگ کے ذریعے 11 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا۔

اس رقم کو “لائن لاسز” یعنی گم شدہ گیس کی مد میں شامل کیا گیا جس کا سیدھا مطلب ہے کہ کمپنی کی نااہلی اور اندرونی چوری کا تاوان عوام سے وصول کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں