کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جب سے سیسی کا ادارہ بنا ہے تب سے سیسی نے آڈٹ نہیں کرایا ہے۔ نثار کھوڑو کے مطابق سیسی نے پی اے سی میں بتایا کے ان کی گورننگ باڈی نے فیصلے کیا ہے کے سیسی کی آڈٹ نہیں ہوگی۔ نثار کھوڑونے مزید کہا کہ کیا سیسی آئین سے بالاتر ہوگئی ہے جو اپنی آڈٹ کرانے سے انکار کر رہے ہیں-
سیسی کی آڈٹ کا حکم دے دیا ہے کیونکے سیسی آڈٹ سے مستثنی نہیں ہے۔سیسی کی 8 ارب کی میڈیکل سپلائیز کی آڈٹ نہیں ہو رہی۔8 ارب ارب کی ادویات چلتی ہیں اورولیکا ہسپتال کا نام تولیاجاتاہےمگر وہاں کی حالت کیا ہے مجھے نہیں معلوم-ولیکا ہسپتال ہو یا کوئی اور ہسپتالیں ہو 8 ارب کوئی چھوٹی رقم نہیں ہوتی اس کی کم از کم آڈٹ تو ہو کوئی چیک تو کرے کے وہاں مشینین چلتی بھی ہیں یا نہیں؟
پی اے سی میں سیکریٹری محنت بھی موجود تھےاس دوران سیسی نے13ارب کےفنڈزمیں سے 70 فیصد فنڈز سیسی کے ہسپتالوں کی ادویات سمیت ھیلتھ کیئر سروسز اور 30 فیصد فنڈز سیسی کے ڈاریکٹوریٹس پر خرچ ہونے کے متعلق آگاہ کیا تھا۔کراچی۔ محکمہ محنت سے گذارش ہے کے وہ سیسی کے ہسپتالوں سے مزدوروں کو ادویات کی فراہمی کے معاملے پر توجہ دیں تو آپ نام کمائینگے اور لوگوں کی دعائیں ملینگی-
خامیوں کو دور کرکے اپنی کارکردگی کو بھتر کرنا چاہئے۔اگر کارکردگی کو بھتر کرینگے تو سر اونچا کرکے بول سکینگے۔سیسی میں 67 ہزار صنعتی یونٹس میں سے صرف 24 ہزار صنعتی یونٹس رجسٹرڈ ہیں۔سیسی میں 60 لاکھ مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں صرف 6 سے 8 لاکھ تک مزدور رجسٹرڈ ہیں۔ صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے اگر یہ تمام 60 لاکھ مزدور سیسی میں رجسٹرڈ ہوتے ہو سیسی ان مزدوروں کو مراعات دے سکتا تھا۔
تمام صنعتی یونٹس اور ان کے مزدوروں کو رجسٹرد نہ کرنا سیسی کی کمزوری ہے۔مزدور جہاں جہاں کام کرتے ہیں چاہے دکان پر کام کرتے ہوں ان کو بھی رجسٹرڈ کرنے کے لئے محکمہ اقدامات لے۔نجی سیکٹر میں مزدوروں کی کم از کم بنیادی اجرت 37 ہزار روپے دینے پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔


