50

پروفیسرڈاکٹرقدوسی کاظمی کی کتاب کی تقریب رونمائی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی کی کتاب ”پاکستانی سمندری حیواناتی تنوع کی فہرست اور اقسام کی درجہ بندی کے وسائل“ کی تقریب رونمائی ہوئی-

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ کتابیں صرف چھپے ہوئے صفحات نہیں بلکہ علم کی کھڑکیاں ہیں جو دوسروں کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتی ہیں، تاکہ وہ دنیا کو اس کی تمام تر تنوع کے ساتھ محسوس کر سکیں اور سیکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدوسی کاظمی کا کام علمی وابستگی کی اعلیٰ مثال ہے۔ یہ فہرست نہ صرف طلبہ اور ماہرین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہے بلکہ عام عوام کے لیے بھی ایک پیچیدہ حیاتیاتی موضوع کو قابلِ فہم بنانے کی قابلِ تحسین کوشش ہے۔

ڈاکٹرخالد عراقی نے پاکستان کی سمندری حیاتیاتی معلومات کو ایک منظم اور مربوط نظام میں یکجا کرنے کی کوشش کو سراہا اور اسے ماحولیاتی علوم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان محققین، اساتذہ، اور طلبہ اس کتاب سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، اور یہ ان کے تحقیقی کام کے لیے ایک کارآمد حوالہ ثابت ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلیہ علوم جامعہ کراچی کے کونسل روم میں شعبہ حیوانیات جامعہ کراچی کی سابق پروفیسروسابق ڈائریکٹر میرین ریفرنس کلیکشن اینڈ ریسورس سینٹر جامعہ کراچی کی کتاب بعنوان: ”پاکستانی سمندری حیواناتی تنوع کی فہرست اور اقسام کی درجہ بندی کے وسائل“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ تحقیق کو محفوظ کرنا اور اس کو کتابی شکل دینا نئے ریسرچرز کے لئے ایک قیمتی اثاثے کی مانندہوتاہے،جس سے استفادہ کرکے وہ ملک ومعاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

اس موقع پرکتاب کی مصنفہ پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی نے کہا کہ پاکستان کا ساحلی علاقہ تقریباً 1046 کلومیٹر پر محیط ہے، جو بحیرہ عرب اور خلیج عمان کے ساتھ واقع ہے، اور اسے سندھ اور بلوچستان (مکران) کے خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس قدرتی دولت کے باوجود پاکستان کی سمندری حیات پر اب تک کوئی جامع اور مربوط کوشش نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں بعض سمندری اقسام کے حوالے سے کوئی حوالہ جاتی مواد یا شناخت کی تصدیق کے لیے کوئی مجاز اتھارٹی موجود نہیں تھی، اس لیے اس کتاب کو ایسی تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے جو سمندری اقسام کی شناخت میں مدد دے سکیں۔یہ تقریب صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی قدرتی دولت کو محفوظ کرنے اور سمجھنے کے لیے حیاتیاتی تحقیق میں ایک سنہری قدم تھا۔

رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے بتایا کہ پروفیسرڈاکٹر قدوسی کاظمی جامعہ کراچی کے شعبہ حیوانیات سے 41 سال وابستہ رہیں، ڈاکٹر قدوسی اب تک 14 کتابیں لکھ چکی ہیں جبکہ چارمونوگرافس اور قومی وبین الاقوامی جرائد میں 170 سے زائد آرٹیکل شائع ہوچکے ہیں۔مجھے امید ہے کہ ان کی اس اشاعت سے ریسرچز کو سیکھنے کے مزید مواقع میسرآئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں