کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) مصطفیٰ عامر کے اغواء اور قتل کیس کی پیروی کرنے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ذوالفقار علی آرائیں نے پراسکیوٹر جنرل سندھ کو خط لکھ دیا
گیارہ مارچ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزم ارمغان کے ریمانڈ کے موقع پر اے ٹی سی کورٹ میں پیش ہوا تھا ،خط
جہاں اے ٹی سی کورٹ نے ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں 17 مارچ تک کی توسیع کردی تھی ،خط
عدالت نے ملزم ارمغان کے والدین کو ملزم سے عدالت میں ملاقات کی اجازت دی تھی ،خط
ملاقات میں ملزم ارمغان کا والد کامران اصغر قریشی نے مجھے اور تفتیشی افسر کو گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ،خط
جس پر میں عدالتی عملے سے کہاکہ وہ معزز جج صاحب کو اس حوالے سے آگاہ کریں،خط
حالات دیکھتے ہوئے میں ملزم کے وکیل کو صورتحال پر قابو پانے کا کہا،خط
ملزم کا والد اور کچھ نامعلوم افراد نے مجھ سے جھگڑا شروع کردیا ،خط
نامعلوم افراد نے کالے کوٹ پہن رکھے تھے خود کو وکیل ظاہر کرنے کے لیے ،خط
لیکن ریکارڈ کے مطابق وہ وکیل نہیں تھے ،خط
سامنے آنے پر ان افراد کو پہنچان سکتا ہوں،خط
وہ افراد ملزم کے باپ کی سیکورٹی کا کام کررہے تھے ،خط
متعلقہ حکام کو اس حوالے سے قانونی کارروائی کا ہدایت کی جائے ،خط
اسپیل پبلک پراسیکیوٹر کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے ،خط


