روس(ایچ آراین ڈبلیو)قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین اور سابق صدر و وزیرِاعظم دمتری میدویدیف نے ایک انتہائی اہم اور دھماکہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص روس، ایران کو نیوکلیئر وارہیڈز دینے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کی تین بڑی ایٹمی تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—پر بمباری کی، جس کے بعد خطے میں تناؤ شدید ہو چکا ہے۔
روسی رہنما نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو “کچھ معمولی نقصان” ضرور پہنچا، مگر مٹیریل اور تنصیبات کو مکمل تباہ نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق ایران پہلے ہی اپنے جوہری مواد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکا تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو نیوکلیئر وارہیڈز مل گئے تو اسے کسی تجربہ گاہ یا تیاری کی ضرورت نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے پاس پہلے سے بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائلز موجود ہیں جو ان وارہیڈز کو داغنے کے لیے تیار ہیں۔


