کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، سندھ بلڈںگ کنٹرول اتھارٹی نے بدترین کرپشن کے عوض غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی میں ملوث افسران کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ان کی کرپشن کو بے نقاب کرنے پر میڈیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی، اس ضمن میں سندھ بلڈںگ کنٹرول اتھارٹی کی پریس ریلیز کے مطابق ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مقامی اخبار میٹرو پولٹین میں حقائق کے منافی خبر کی اشاعت پر سخت الفاظ میں تردید اور مذمت کی ہے جبکہ اس سلسلے میں ایف آئی اے سائبر کرائم ،سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور کراچی پولیس چیف کو ایف ائی آر اندراج کے لئے خطوط ارسال ،کردیئے۔
صحافت کی آڑ میں مذموم مقاصد بھتہ خوری کے لئے دھمکیاں دینے پر چیف ایڈیٹر زوار حسین شیخ کو قانون کے کثھیرے میں لائیں گے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدامی مہم میں ، SOPs پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اتھارٹی کے افسران ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سربراہی میں بھرپور قانونی کارروائیاں کررہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حقائق کے منافی جھوٹی خبریں شائع کرنا ادارے کی ساکھ سمیت افسران کی کردار کشی، بھتہ خوری کے ناجائز کاموں کے لئے دھمکی آمیز فون کالز میں ماہانہ 10 لاکھ روپے کی ڈیمانڈ بلیک میلنگ ہے جسے کسی صورت برداشت نہین کیا جائے گا۔
جبکہ اس حوالے سے آئندہ مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے جھوٹی خبروں سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی و دیگر افسران کی کردار کشی کے خاتمے کے لئے سائبر کرائم سیل سے رجوع کر لیاگیا ہے،
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اطلاعات سندھ، انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو مذکورہ اخبار کی خبروں کے تراشے ارسال کردیئے ہیں اس ضمن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔


