حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)اسلام آباد پھاٹک کے قریب گیس سلنڈر دھماکے نے ایک اور گھر کا چراغ گل کر دیا۔ زور دار دھماکے کے نتیجے میں ایک معصوم بچہ جاں بحق جبکہ ایک گھر کا فرد شدید زخمی ہوگیا۔ اہلِ علاقہ اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دور دور تک اس کی آواز سنی گئی۔یہ واقعہ نہ صرف ایک المناک سانحہ ہے بلکہ اس نے ایک اور بڑی تباہی کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔اسلام آباد پھاٹک کے حادثے کے بعد اب نظریں حیدرآباد سائیٹ تھانے کی حدود میں مین ٹنڈو محمد خان روڈ پر قائم غیر قانونی گیس سلنڈر دکانوں پر مرکوز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریلوے کی سرکاری زمین پر قائم ان دکانوں میں بڑی تعداد میں، اور بڑے سائز کے گیس سلنڈر رکھے گئے ہیں۔
ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق یہ سلنڈر نہ صرف غیر قانونی طریقے سے اسٹور کیے گئے ہیں بلکہ کسی قسم کے حفاظتی اقدامات کے بغیر عام شہریوں کے بیچوں بیچ موجود ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہاں کسی بھی وجہ سے دھماکہ ہو گیا تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخ کا ایک بڑا اور خونی سانحہ بن سکتا ہے۔
ٹنڈو محمد خان روڈ شہر کا مصروف ترین شاہراہ ہے۔ یہاں سے 24 گھنٹے بڑی گاڑیاں، کوسٹرز، بسیں اور عام شہریوں سے بھرے ہوئے رکشے و دیگر سواریوں کا گزر ہوتا ہے۔ شادی ہال، اسکول، مکانات اور کاروباری مراکز اسی علاقے میں موجود ہیں۔ اگر یہاں کوئی دھماکہ ہوا، تو اس کی شدت نہ صرف زمین کو ہلا سکتی ہے بلکہ اس کا دھواں سیٹلائٹ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ہم حکومتِ سندھ، ضلعی انتظامیہ، ریلوے حکام، اور سائیٹ تھانے کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ چند پیسوں کی لالچ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے مہلک کاروبار کو نظر انداز کر رہے ہیں۔اگر فی الفور ایکشن نہ لیا گیا تو یہ خاموش بارود ایک دن پھٹ جائے گا، اور اس وقت افسوس اور تحقیقات سے جانیں واپس نہیں آئیں گی۔
مطالبہ
1. ریلوے کی زمین پر قائم تمام غیر قانونی گیس سلنڈر دکانوں کو فوری بند کیا جائے۔
2. سائیٹ تھانے کو جواب دہ بنایا جائے کہ ایسی سرگرمیوں کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
3. حیدرآباد میں گیس سلنڈر کی ترسیل و فروخت کے قواعد و ضوابط پر از سرِ نو عملدرآمد کرایا جائے


