**دُکی (ایچ آراین ڈبلیو)**بلوچستان کے ضلع دُکی میں دو کوئلہ کانوں کے ٹھیکیداروں کے درمیان مبینہ تنازعے کے دوران حریف کان کی آکسیجن سپلائی بند کیے جانے سے تین کان کن دم گھٹنے کے باعث جاں بحق ہوگئے، جن میں دو افغان شہری بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جبکہ چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتار افراد سے واقعے سے متعلق تفتیش جاری ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے مزید کارروائی کی جارہی ہے۔
مائنز انسپکٹریٹ نے واقعے کو محض حادثہ قرار دینے کے بجائے مبینہ مجرمانہ غفلت اور قتل کے طور پر دیکھا ہے۔ متعلقہ ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کررہے ہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
کان کنوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول میں کام کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کان کنی کے دوران حفاظتی انتظامات، مناسب وینٹیلیشن اور ہنگامی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کے ساتھ ذمہ دار افراد کا تعین اور متاثرہ خاندانوں کو قانونی و مالی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
### HRNW سپورٹ اپیل
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد اور محنت کش طبقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### ڈسکلیمر
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور متعلقہ حکام کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ واقعے میں ذمہ داری سے متعلق حتمی فیصلہ مجاز تحقیقاتی اور قانونی اداروں کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔


