کراچی چڑیا گھر کی ابتر صورتحال بے نقاب — مادہ ریچھ رانو کی منتقلی کے بعد سنگین غفلتوں کا انکشاف

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — **سندھ ہائیکورٹ** میں **کراچی چڑیا گھر کی خراب انتظامی صورتحال** سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئے۔ عدالت کے حکم پر **مبصرین کی عبوری رپورٹ** عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنالی گئی۔

رپورٹ کے مطابق **مادہ ریچھ رانو** کو طویل عرصے تک دودھ اور ڈبل روٹی دینے سے **غذائی قلت** کا سامنا رہا، جبکہ چڑیا گھر میں **جانوروں کا کوئی میڈیکل ریکارڈ موجود نہیں**۔

مبصرین نے بتایا کہ **تالاب کی صفائی کم از کم دو سال بعد کی گئی**، اور **کسی جانور کو صاف پانی دستیاب نہیں**۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ **سفید شیرنی شدید جلدی امراض میں مبتلا** ہے، جبکہ **واحد چمپینزی تنہائی کا شکار** ہے اور اسے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ **چڑیا گھر کا ویٹرنری کلینک ناکارہ** ہے، ایکسرے مشین خراب اور سرجیکل آلات زنگ آلود ہیں۔ مزید انکشاف ہوا کہ **مچھلیوں کی دیکھ بھال پلمبر کے ذمے ہے** اور کئی مچھلیاں مردہ یا بے حس پائی گئیں۔

مبصرین نے سفارش کی کہ **کراچی چڑیا گھر کو بتدریج ختم کر کے بوٹینیکل گارڈن اور ہیریٹیج پارک** میں تبدیل کیا جائے، اور **ایک خودمختار گورننگ باڈی** قائم کی جائے تاکہ **جنگلی حیات کے تحفظ** کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں